ट्रेंडिंग

Blog single photo

اتراکھنڈ حکومت میں ایجوکیشن آفیسر ڈاکٹر احمد اقبال کا دارالعلوم کا دورہ

08/10/2019

اتراکھنڈ حکومت میں ایجوکیشن آفیسر ڈاکٹر احمد اقبال کا دارالعلوم کا دورہ
دیوبند: 8 اکتوبر (ہ س) ۔
اتراکھنڈ حکومت میںایجوکیشن آفیسر اور وقف بورڈ کے نگراں آئی اے ایس ڈاکٹر احمد اقبال نے آج یہاں دارالعلوم دیوبند پہنچ کر ادارہ کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی اور دارالعلوم وقف دیوبند میں مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی ونائب مہتمم مولانا محمد شکیب قاسمی سے ملاقات کی۔ مہمان خانہ میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی سے ملاقات کے دوران انہوںنے بتایاکہ ان کی کافی عرصہ سے دارالعلوم دیوبند میں حاضری کی خواہش تھی جوآج مکمل ہوئی ہے۔ اس دوران مفتی ابوالقاسم نعمانی نے دارالعلوم دیوبند کی عظیم تاریخ اور خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایاکہ دارالعلوم دیوبند اور یہاں کے اکابرین کاجنگ آزادی میں اور اس کے بعدملک کی تعمیر و ترقی میںبنیادی رول ہے۔ دارالعلوم دیوبند میں تقریباً پانچ ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں،جنہیں قیام وطعام کے علاوہ،طبی سہولیات،وظیفہ وغیرہ سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کرائی جاتی ہیں،یہاںکے طلبہ پوری دنیامیںمذہب اسلام کی ترویج و ترقی میں مصروف ہیں۔ بعد ازیں ڈاکٹر احمد اقبال نے ادارہ کی جدید و قدیم لائبریری، مسجد رشید اور دیگر اہم مقامات کا معائنہ کیا اور کہاکہ دارالعلوم دیوبند ملت اسلامیہ ہندکا عظیم ادارہ ہے،جس کا فیض پوری دنیا میں پہنچ رہاہے، انہوں نے کہاکہ دارالعلوم دیوبند یقینی طورپر روحانیت کا مرکز ہے، یہاں آکر روحانی سکون اور مسرت کا احساس ہوتاہے ۔ انہوںنے ادارہ کی لائبریری میں موجود نادرو نایاب کتابوں کو عظیم علمی اثاثہ قرار دیا۔ قبل ازاں ڈاکٹر احمد اقبال نے دارالعلوم وقف دیوبند پہنچ کر یہاں ادارہ کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی اور نائب مہتمم مولانا محمد شکیب قاسمی سے ملاقات کی۔ اس دوران مولانا شکیب قاسمی نے ڈاکٹر احمد اقبال کو ادارہ کی خدمات ،تعلیم و تربیت اور نصاب کے متعلق بتایا اور حجة الاسلام اکیڈمی کے ذریعہ انجام دی جارہی عظیم علمی خدمات سے بھی روشناس کرایا۔ ڈاکٹر احمد اقبال نے کہاکہ وہ علماءکرام سے بے پناہ انسیت اور تعلق رکھتے ہیں،انہوںنے دارالعلوم وقف دیوبند کے اکابرین کے حوالہ سے بھی گفتگو کی۔ اس دوران دالعلوم وقف دیوبند کے استاذ حدیث مفتی محمد عارف قاسمی، دارالعلوم دیوبند کے رکن قاری محمد عاصم اور قاسم عثمانی وغیرہ موجود رہے۔ 
ہندوستھان سماچارفہیم صدیقی


 
Top