क्षेत्रीय

Blog single photo

اے ایم یو طلبا کا بہار کی گلناز کو انصاف کیلئے احتجاج، وزیرا علی کے نام دی عرضداشت

21/11/2020

اے ایم یو طلبا کا بہار کی گلناز کو انصاف کیلئے احتجاج، وزیرا علی کے نام دی عرضداشت  
علی گڑھ،21 نومبر (ہ س)۔
بہار کے ویشالی ضلع میں ہوئے گلنازقتل معاملے میں پولیس کی سرد مہری کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے آج ڈک پوائنٹ پر ایک خاموش احتجاج درج کراتے ہوئے وزیر اعلی بہار کے نام 6 نکاتی عرضداشت یونیورسٹی انتظامیہ کو پیش کی جس میں ویشالی ضلع کے گلناز قتل معاملہ میں ملزمان کو بلا تاخیر گرفتار ی کا مطالبہ کیاگیا۔ 
ساتھ ہی طلبا لیڈران نے عرضداشت میں کہا کہ اس کیس کو فاسٹ ٹریک عدالت کے ذریعہ جلد از جلد نمٹایا جائے اور متاثرہ کو معاوضہ دیا جائے۔ پولیس اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ نربھیا معاملے کے بعد میں خواتین تحفظ کے لئے مختص کئے گئے فنڈ کا استعمال کیا جائے اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ہر ضلع میں خواتین تھانے کا قیام عمل میں لایا جائے۔ 
اس موقع پر طلبا نے مطالبہ کیا کہ انکے مذکرہ مطالبات پر جلد از جلد عمل درآمد کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعلی بہار کی حیثیت سے آپکی خود کی ذمہ داری ہے کہ آپ خواتین تحفظ کے ساتھ انھیں ایسا ماحول مہیا کرائیں کہ جس سے خواتین بے خوف زندگی بسر کرسکیں۔ 
طلبا لیڈر سمیا خان نے کہا کہ گلناز کو جس طرح جلایا گیا بعد اسکی موت ہوئی وہ انسانی حقو ق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ آج ملک بھر میں خواتین کے اندر عدم تحفظ بڑھتا جارہا ہے اور لڑکیاں محفوظ نہیں ہیں۔ اس لئے ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کے لئیبروقت انصاف ملنا اشہد ضروری ہے۔ 
طلبا لیڈر سابق کابینہ رکن طلبا یونین غزالہ صدیقی نے کہا کہ جب جب عورتوں پر ظلم ہوتا ہے تو سماج کا ہر طبقہ فکر مند ہوتا ہے لیکن اب صرف فکر مند ہونے سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملی اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے سخت قانون بنائے جائیں کہ لڑکیوں کے ساتھ غلط کرنے والوں کی روح کانپ جائے۔ انھوں نے کہا کہ گلناز کا قصور یہ تھا کہ اس نے ایک لڑکے کی محبت سے انکار کردیا تھا جس سے عوض میں اسکے بری طرح جلایا گیا اور اس آگ سے وہ تاب نہ لاسکی اور اپنے مالک حقیقی سے جاملی۔ غزالہ نے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد پر سخت قانونی کاروائی جلدا زجلد کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ اس پورے معاملے پر بہار حکومت کی کارکردگی بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے، اس لئے اب صرف اور صرف انصاف ہی اس کارکردگی کی پردہ پوشی کرسکتی ہے۔ طلبا لیڈر محمد عارف خان  نے مطالبہ کیا کہ تمام ملزمان کو فوری گرفتاری کیا جائے اور گلناز کے اہل خانہ میں سے کسی فرد کو سرکاری نوکری دی جائے۔اس موقع پر دیگر طلبا لیڈران کے ساتھ پڑاکٹر ٹیم کے ذمہ داران بھی موجود رہے۔
ہندوستھان سماچار 





 
Top