राष्ट्रीय

Blog single photo

اپنی زبانوں میں اعلی تعلیم؟

03/12/2020

ڈاکٹر ویدپرتاپ ویدک
وزیر تعلیم ڈاکٹر۔ رمیش پوکھریال نشانک نے آج اعلان کیا ہے کہ ان کی وزارت اعلی تعلیم ہندوستانی زبان کے ذریعہ د لانے کی کوشش کرے گی۔ ہندوستانی زبانوں یا مادری زبان کے ذریعہ بچوں کی تعلیم ، یہ نئی تعلیمی پالیسی میں بھی کہا گیا ہے اور کوٹھاری کمیشن کی رپورٹ میں بھی اس پالیسی پر زور دیا گیا تھا۔
1967 میں ، اندرا حکومت کے وزرائے تعلیم ، ڈاکٹر۔ تریگن سین ، شری بھاگوت جھا آزاد اور پروفیسر شیر سنگھ اور بعد میں ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے بھی ہندوستانی زبان کو تعلیم کاذریعہ بنانے کی پوری کوشش کی ، لیکن پھربھی ہماری حکومتیں تعلیم کو ہندوستانی بنانے میںکیوں ناکام رہیں؟ اس لئے کہ انہیں بال تو اپنے سر پراگانے ہیں ، لیکن وہ مالش اپنے پیروں کی کرتی رہی۔ پیرپر مساج کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کو مادری زبان کے ذریعہ پڑھانا اچھا ہے ، لیکن جب وہ آگے بڑھتے ہیں تو انگریزی میں غلامی شروع کردیتے ہیں۔ سمجھدار اور قابل افراد اپنے پیروں کی مالش کرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کوبھی انگریزی میڈیم اسکولوں میں ہی پڑھاتے ہیں۔
اگر ہم ملک میں مقامی زبانوں کو تعلیم اور علم کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اعلی تعلیم اور پی ایچ ڈی کریں۔اپنی زبانوں میں تحقیقی کام کرنے کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ اگر ہماری حکومتیں اس طرح کی جرات کرتی ہیں تو کروڑوں لوگ موت کے اسکولوں اور جیب کاٹنے والی انگریزی میڈیم میں اپنے بچوں کو کیوں پڑھائیں؟ تب انگریزی کے ناکارہ افراد کو سرکاری ملازمتوں سے ہٹانا پڑے گا۔ میں یہ بات پچھلے ساٹھ سالوں سے کہہ رہا ہوں ، لیکن میں نے نشانک جیسے وزیر تعلیم کے منہ سے پہلی بار یہ سنا ہے۔ میرے کہنے پر 2011 میں ، بھوپال میں اٹل بہاری واجپئی ہندی یونیورسٹی اسی مقصد کے لئے بنایا گیا تھا لیکن پھر بھی یہ اپنے گھٹنوں کے بل رینگ رہا ہے۔
55 سال پہلے ، جب میں نے انڈین اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز میں ہندی میں اپنی بین الاقوامی سیاست کا مقالہ لکھنے کا مطالبہ کیا تو مجھے اسکول سے باہر نکال دیا گیا۔ ڈی ایم کے کے علاوہ ملک کی تمام جماعتوں کے رہنماو¿ں نے میرا ساتھ دیا۔ پارلیمنٹ کا کام متعدد بار ٹھپ ہوا لیکن بالآخر میں فتح یاب ہوا لیکن اصل مسئلہ ابھی بھی کھڑا ہے جہاں ہماری حکومتیں اور ماہرین تعلیم انگریزی کی غلامی میں مصروف ہیں۔
شاید ڈاکٹر نشانک کچھ کرگزریں۔ وہ ایک پڑھے لکھے عالم ہیں۔ اگر وہ انگریزی کی میراث کو ختم کردیں اور ملک میں 7-5 غیر ملکی زبانیں متعارف کروائیں تو ہماری غیر ملکی تجارت اور سفارتکاری بھی قلانچے بھرنا شروع کردے گی اور ہندوستان دنیا کا ایک مضبوط اور خوشحال سپر پاورملک بن جائے گا۔
(مضمون نگار مشہور صحافی اور کالم نگار ہیں ۔)


 
Top