राष्ट्रीय

Blog single photo

ترقی اورخوشحالی کیلئے بلدیہ حیدرآباد پرٹی آرایس اقتدار ضروری

30/11/2020

 ترقی اور خوشحالی کیلئے بلدیہ حیدرآباد پر ٹی آر ایس اقتدار ضروری
حیدرآباد۔30۔نومبر(ہ س)۔
 حیدرآباد میں امن، رواداری و گنگا جمنی تہذیب کے تحفظ کیلئے فیصلہ کی گھڑی آپہنچی ہے۔ گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات کی مہم کے دوران گذشتہ چند دنوں میں رائے دہندوں کو کئی تلخ تجربات اور چونکا دینے والے حالات سے گذرنا پڑا۔ عوام نے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کی مہم کا کئی مرتبہ مشاہدہ کیا لیکن بلدی انتخابات کے باوجود قومی سطح کے قائدین اور مہم کو جس انداز میں فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی اس نے امن پسند شہریوں کو چوکس و چوکنا کردیا ہے۔ انتخابی مہم کا اختتام ہوچکا اور پسند کے امیدواروں کے انتخاب کیلئے غور و فکر کرنے ووٹرس کو وقت دیا گیاہے۔ ایسے میں شہر کو فرقہ واریت اور تفرقہ پسند طاقتوں سے بچانے کے حق میں فیصلہ کرنے کا عوام نے پہلے ہی تہیہ کرلیا ہے۔حیدرآباد بلدی الیکشن کی مہم نے قومی سطح کی اہمیت اختیار کرلی جس کیلئے بی جے پی ذمہ دار ہے۔ مجالس مقامی کے انتخابات یوں تو بنیادی مسائل پر لڑے جاتے ہیں لیکن بی جے پی نے فرقہ پرستی ایجنڈہ پر عمل کرکے شہر کی فضاء کو مکدر کرنے کی کوشش کی تاکہ شمالی ہند کی ریاستوں کی طرح فرقہ واریت کی لہر پر سوار ہوکر سیاسی مقاصد کی تکمیل کی جاسکے۔ حیدرآباد میں عوام سابق میں فرقہ واریت کے زہر سے کافی متاثر ہوچکے ہیں اور وہ حیدرآباد کے امن کو بگاڑنے کی مزید اجازت نہیں دے سکتے۔ آج بھی حیدرآباد کا شمار دنیا کے اْن چنندہ شہروں میں ہوتا ہے جو امن و سکون اور ترقی کے ساتھ رہائش کیلئے پسندیدہ تصورکئے جاتے ہیں۔
ترقی کیلئے امن ضروری ہے اور ٹی آر ایس نے لااینڈ آرڈر صورتحال پر قابو پاکر ترقیاتی ایجنڈہ پر عمل شروع کیا تھا۔ ایسے وقت جبکہ تلنگانہ سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر سہولتوں میں دیگر ریاستوں سے مسابقت کررہا ہے فرقہ پرست طاقتوں نے تلنگانہ کو پسماندگی کی طرف جھونکنے سازش کی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بالخصوص اہلیان حیدرآباد کی بھلائی اسی میں ہے کہ ترقی و خوشحالی کی ضامن ٹی آر ایس کو بھاری اکثریت سے منتخب کرکے حیدرآباد کا تحفظ کریں۔حیدرآباد میں امن و خوشحالی کا اثر دیگر اضلاع پر پڑیگااور وہاں عوام پسماندگی سے نکل کر ترقی کی سمت سفر کرسکتے ہیں۔ شہر میں سیکولر اور جمہوریت پسند طاقتوں کے علاوہ بائیں بازو نظریات کے حامل جہد کاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کو حیدرآباد کا اقتدار حوالے کیا جائے تاکہ ریاستی حکومت اور جی ایچ ایم سی کے بہتر اشتراک سے ترقی کی ریل کسی رکاوٹ کے بغیرآگے بڑھتی رہے۔
ہندوستان سماچار


 
Top