राष्ट्रीय

Blog single photo

دونوں اپنی ضدچھوڑیں

02/12/2020

ڈاکٹر ویدپرتاپ ویدک
کل امید تھی کہ کسانوں کی تحریک کا ہمہ جہت حل سامنے آجائے گا۔ وزیر زراعت نریندر تومر نے کسانوں سے بات کی اور فوری طور پر انھیں بات کرنے کے لئے بلایا۔ یہ بھی اچھا ہے کہ حکومت نے تمام کسانوں کی براری میدان میں جمع ہونے کی درخواست ترک کردی لیکن کسانوں نے دہلی پہنچنے کے لئے مقبول روایتی راستوں پر دھرنا دیدیا۔ دہلی کے لوگوں کو پھل اور سبزیاں لینا مشکل ہو رہا ہے اور سیکڑوں ٹرک سرحدی مقامات پر کھڑے ہیں۔ اس سے کسانوں کو بھی نقصان ہورہا ہے۔ تاجر بھی پریشان ہیں۔
یہ وہ وقت ہے جب دہلی کے عوام نے کسانوں کے لئے اپنے خزانے کھول دیئے ہیں۔ اگر یہ دھرنا اور احتجاج طویل عرصے تک جاری رہا تو عام عوام کاشتکاروں خصوصا پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں کے خلاف ناراضگی پیدا ہوسکتی ہے جو دوسرے ہندوستانی کسانوں کے مقابلہ کافی حد تک بہترحالت میں ہیں۔ وزیر زراعت تومر کی یہ تجویز عملی ہے کہ پانچ کسان رہنماو¿ں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے ، جو اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے حکومت کے ساتھ بیٹھیں ، لیکن مذاکرات میں شامل تین چار درجن کسان رہنما اس بات پر قائل نہیں ہیں۔ یہ واضح ہے کہ اس تحریک کے کوئی مشترکہ رہنما نہیں ہیں۔ پتہ نہیں ، اب معاملہ آگے کیسے بڑھے گا؟ حکومت ایک بار میں 100 رہنماو¿ں سے بات کر سکتی ہے ، لیکن ہر کوئی ان کی ڈفلی اور ان کے راگ سے پریشان ہوجائے گا۔
جہاں تک تینوں زرعی قوانین کے انخلا کا تعلق ہے تو یہ خالص انتہا پسندی ، تعصب ہے۔ صرف 6 فیصد کسانوں کی نمائندگی کرنے والے ان نئے قائدین کے سامنے حکومت کیوں ہتھیار ڈال دے؟ اگر وہ پرامن مظاہرے کرتے ہیں تو کریں ، لیکن اگر وہ تشدد کا سہارا لیتے ہیں تو حکومت کو سخت کارروائی کرنی ہوگی۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حکومت اپنی ضد پراڑی رہے۔ جو بھی مشورے آئیں اس پر اچھی طرح سے غوروفکرکریں ۔ کم سے کم سپورٹ قیمت کو قانونی حیثیت دینے سے بنیادی مسئلہ حل ہوسکتا ہے ، لیکن اس سے کم یا زیادہ شرح پر سامان بیچنے کے لئے چھوٹ دینا ضروری ہے۔ اس پر سزا یا جرمانے کی فراہمی غیر منصفانہ ہوگی۔ منڈیوں کی تعداد میں اضافہ اور ان کے نظام کو زیادہ کاشت کار دوست بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
(مضمون نگار مشہور صحافی اور کالم نگار ہیں۔)


 
Top