राष्ट्रीय

Blog single photo

اب عوامی سروکار کا موقع ہے۔

01/12/2020

ڈاکٹر ویدپرتاپ ویدک
نومبرکامہینہ بھی کیا مہینہ تھا؟ اس مہینے میں چھ سربراہی اجلاس ہوئے جن میں وزیر اعظم اور ہندوستان کے نائب صدر نے چین ، روس ، جاپان ، جنوبی افریقہ اور پاکستان سمیت ہندوستان اور وسطی ایشیاء کے ممالک کے رہنماوں سے براہ راست بات چیت کی۔ اسے مکالمہ کیسے کہتے ہیں؟ تمام رہنما زوم یا انٹرنیٹ پر تقریر کرتے رہے۔ سب نے کورونا کی وبا پر بات کی۔ سب نے اپنی لڑائی کی مہارت کا تذکرہ کیا۔ ہر ایک نے ایسی باتوں کا اعادہ کیا جو وہ اکثر ایسی کانفرنسوں میں بولتے ہیں۔ انہوں نے اپنی حریف قوموں کی مخالفت کی۔
اصل سوال یہ ہے کہ ان سربراہی اجلاس کی اہمیت کیا تھی؟ بہتر ہوتا اگر ہندوستان اپنے ہمسایہ ممالک سے براہ راست رابطے کرتے۔ اس مکالمے کے لئے سارک (سارک) تشکیل دیا گیا تھا۔ لگ بھگ 40 سال پہلے ، جب اس کی تعمیر کی تیاری ہورہی تھی ، تو ہم امید کر رہے تھے کہ ہندوستان اور اس کے ہمسایہ ممالک مل کر یوروپی یونین کی طرح مشترکہ منڈی ، مشترکہ پارلیمنٹ ، مشترکہ حکومت اور مشترکہ فیڈریشن تشکیل دیں گے ، لیکن یہ خواب ہندوستان -پاک تنازعہ کا شکار ہوگیا۔ سارک کانفرنس ان دونوں ممالک کی عدم توجہ اورمن مٹاﺅکی وجہ سے متعدد بار ملتوی کردی گئی۔ یہاں تک کہ جب یہ ہوئی بھی تو، کوئی اہم فیصلے نہیں کیے گئے۔
سارک کانفرنسوں میں کیا ہوتا ہے؟ ان ممالک کے وزرائے اعظم کی شرکت اوراپنی رسمی تقریریں کرکے بری ہوجاتے ہیں اور بعد میں ان کے افسران ان تقریروں کی بنیاد پر تعاون کے چھوٹے چھوٹے راستے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ حکومتیں باہمی تعاون میں اس قدر ڈوبی ہوئی ہیں کہ کوئی بڑا فیصلہ کارگر نہیں ہوسکتا۔ پھر کیا کریں؟ میری رائے ہے کہ سارک کو جاری رکھنا چاہئے بلکہ ایک عوامی-سارک (پیپلز سارک) کا قیام بھی جاری رکھنا چاہئے ، جس میں میانمار ، ایران ، ماریشیس ، سیشلس اور وسطی ایشیاءکی پانچ جمہوریتوں کے علاوہ سارک کے آٹھ ممالک کے کچھ نمایاں افراد کو بھی شامل کیا جائے۔
میں ان تمام ممالک میں رہائش پذیررہاہوں اور وہاں اپناپن دیکھا ہے۔ اگر ان 17 ممالک کے عوامی نمائندوں کی تنظیم تشکیل دی جائے تو اگلے پانچ سالوں میں ایک سو ملین نئی ملازمتیں پیدا ہوسکتی ہیں ، ایشیا کا یہ خطہ یورپ سے زیادہ خوشحال ہوسکتا ہے اور تبت ، کشمیر ، طالبان وغیرہ جیسے معاملات۔ خود ہی حل کر سکتے ہیں۔یہ سیکڑوں سالوں سے چلے آرہے برہدآریہ خاندانوں کی تجدیدنوہوگی۔
(مضمون نگار ہندوستانی کونسل برائے خارجہ پالیسی کے چیئرمین ہیں۔)


 
Top