चुनावी विशेष

Blog single photo

سلطانپور: جو تھے کبھی سائے، آج ہو رہے پرائے

09/05/2019

اندرا گاندھی کی چھوٹی بہو کے خلاف جمعرات کو پرینکا کا روڈ شو ،خاندان میں لائے گامزید تلخی
سنجے گاندھی کے ساتھ چلتے تھے کانگریس امیدوار سنجے سنگھ، آج ان کی بیوی کے خلاف ہیں میدان میں 
بی ایس پی امیدوار چندربھدر تھے ورون کے پارلیمانی حلقہ کے انچارج
لکھنو¿، 09 مئی (ہ س)۔ 
 اودھ کی ہائی پروفائل لوک سبھا سیٹوں میں سلطانپور بھی اہم ہے۔ وہاں سے مرکزی وزیر اور اندرا گاندھی کی چھوٹی بہو مینکا گاندھی الیکشن لڑ رہی ہیں۔ پچھلی بار ان کے بیٹے ورون گاندھی انتخابات جیتے تھے۔اس بار پچھلی بار کی توقع ورون اور مینکا گاندھی کے تلخ تیور موضوع بحث بنا دیا ہے۔
یہاں یہ بھی دیکھنے والی بات یہ ہے کہ جو بھی مینکا کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں، وہ کبھی نہ کبھی بی جے پی اور مینکا کے ساتھ رہے ہیں۔ یہ بھی دلچسپ ہے کہ مینکا گاندھی نے اس بار امیٹھی میں بھی انتخابی مہم کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن گئی نہیں۔ وہیں امیٹھی میں انتخابات ہونے تک پرینکا گاندھی اور راہل بھی سلطانپور میں نہیں گئے لیکن امیٹھی میں انتخابات ہوتے ہی جمعرات کے روز کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا واڈرا نے روڈ شو کا پروگرام لگا دیا۔ اس کی وجہ سیاسی تجزیہ کار سونیا کے خاندان کے من میں ڈر بتا رہے ہیں۔
واضح ہو کہ 2014 میں بی جے پی نے اس وقت تک فائر برانڈ لیڈر کے طور پر چرچہ میں رہے ورون گاندھی کو سلطانپور سے الیکشن اس کی وجہ لڑایا تھا کہ امیٹھی اور رائے بریلی سے قریب ہونے کی وجہ سے پورے علاقے کو متاثر کریں گے لیکن ورون الیکشن لڑتے وقت فائر برانڈ نہیں بن پائے اور نہ ہی اپنے خاندان کے تئیں تلخ بن پائے۔ اس کے باوجود سلطانپور سے وہ 410348 ووٹ پاکر بی ایس پی کے پون پانڈے کو 178902 ووٹوں سے ہرانے میں کامیاب رہے تھے۔ پون پانڈے کو 231446 ووٹ ملے تھے جبکہ ایس پی کے شکیل کو 228144 ووٹ ملے تھے اور وہ تیسرے مقام پر تھے۔
اس بار عظیم اتحاد سے بی ایس پی نے چندربھدر سنگھ کو امیدوار بنایا ہے۔ چندربھدر سنگھ گزشتہ انتخابات میں ورون گاندھی کی تشہیر کر رہے تھے۔ انتخابات کے بعد چندر بھدر کو ورون گاندھی نے سلطانپور کا اپنا نمائندہ بھی بنایا تھا۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ چندربھدر جو بھی کہہ دیں گے، ورون وہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔
بی جے پی کے مقامی رہنماو¿ں کے مطابق ورون گاندھی نے انہیں اسمبلی کا ٹکٹ دلوانے کا بھی یقین دلایا تھا لیکن خود کی نہ چل پانے کی وجہ وہ ایسا نہیں کر سکے۔ اس بار جب وہ مینکا گاندھی کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں تو ورون اور مینکا کے سر بدل گئے اور کسی بھی جلسہ میں ان کے پورے مجرمانہ ریکارڈ کاذکر کرنا نہیں بھولتے۔
وہیں پچھلی بار بی ایس پی سے الیکشن لڑ چکے اور دوسرے نمبر پر رہے پون پانڈے، اس بار بی ایس پی میں رہتے ہوئے بھی مینکا گاندھی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہاں تک کہ بی ایس پی سربراہ کے سلطانپور میں پروگرام کے دوران بھی وہ اسٹیج پر نہیں گئے۔ ان کے آنے سے بی جے پی کارکنوں میں کافی جوش ہے۔
پون پانڈے نے 'ہندوستھان سماچار' کو بتایا کہچندربھدر مجرمانہفطرت کے شخص ہیں۔ ان پر کئی مقدمے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے ساتھ میں اسٹیج کا اشتراک نہیں کر سکتا۔
وہیں کانگریس سے الیکشن لڑ رہے راج گھر انے خاندان کے ڈاکٹر سنجے سنگھ جب تک سنجے گاندھی تھے تو ان کے سب سے خاص لوگوں میں سے ایک تھے۔ ان کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار رہتے تھے۔ ان کی موت کے بعد انہوں نے مینکا گاندھی کا ساتھ چھوڑ دیا۔ پھر وہ بی جے پی میں آئے اور انہوں نے امیٹھی سے کانگریس امیدوار کیپٹن ستیش شرما کو شکست دی تھی۔ اس کے بعد دوبارہ کانگریس میں چلے گئے اور 2009 میں سلطانپور سے 300411 ووٹ پاکر ممبر پارلیمنٹ بھی بنے تھے۔ اس وقت بی ایس پی کے محمد طاہر 201632 ووٹ پاکر دوسرے نمبر پر تھے ۔وہیں سماجوادی پارٹی کے اشوک پانڈے 107895 ووٹ پاکر تیسرے نمبر پر تھے۔
جمعرات کے روزہی سلطانپور میں روڈ شو کرنے پہنچ رہی کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈراکے دورے سے کتنی تلخی بڑھتی یہ تو مستقبل میں ہی پتہ چلے گا لیکن اس کے بڑھنے کے پورے آثار ہیں ۔ اس سے ورون کے تیور بھی کافی تلخ ہونے کی امید ہے۔
ہندوستھان سماچارمحمد شہزاد


 
Top