चुनावी विशेष

Blog single photo

اتحاد بڑی سماجی تبدیلی کے لئے، بی جے پی ڈری گھبرائی: مایاوتی

16/05/2019


وارانسی، 16 مئی (ہ س)۔ 
 لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کا پارلیمانی حلقہ وارانسی جمعرات کو سیاسی کروکشیتر میں تبدیل نظر آیا۔ اتحاد کے امیدواروں کو فتح دلانے کے لئے سنت رویداس کی جائے پیدائش سیر گووردھن پور میں منعقد ہ کانفرنس میں بی ایس پی سربراہ مایاوتی، ایس پی کے قومی صدر اکھلیش یادو، آر ایل ڈی کے سربراہ چودھری اجیت سنگھ نے بی جے پی کے ساتھ کانگریس پر جم کر نشانہ لگایا۔ رہنماو¿ں نے دعویٰ کیا کہ 23مئی کے بعد مرکز سے بی جے پی کی حکومت باہر ہو جائے گی۔ بی جے پی کانگریس کی راہ پر چل رہی ہے۔ 
کانفرنس میں بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو براہ راست نشانے پر لے کر ان کے ذات پر پھر سوال اٹھایا۔ بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کاغذی مصنوعی اور دکھاوٹی طور پر پسماندہ ذات کے بن رہے ہیں، جبکہ وہ گجرات کے اعلیٰ طبقہ سے ہیں۔ گجرات میں اپنی حکومت میں انہوں نے اپنی ذات کو پسماندہ بنوا کر غریبوں پسماندہ لوگوں کا حق مار دیا۔ مایاوتی نے طنز کستے ہوئے کہا کہ اب یہ غریب اور فقیر بن رہے ہیں۔
بی ایس پی سربراہ نے جانے پہچانے انداز میں وزیر اعظم اور بی جے پی صدر امت شاہ پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ 23مئی کے بعد گرو اور شاگرد کی جگل بندی بھی ختم ہو جائے گی۔ ان کے برے دن آنے والے ہیں۔ ریاست کے سربراہ یوگی آدتیہ ناتھ کو لے کر کہا کہ انتخابات کے بعد انہیں بھی مٹھمیں بھےج دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 06 مراحل کے انتخابات کے بعد گھبرائی نظر آ رہی ہے۔ پارٹی کی نیند اڑ گئی ہے۔ مایاوتی نے وزیر اعظم اور بی جے پی کے رہنماو¿ں کی طرف سے عظیم اتحاد کو مہاملاوٹی کہنے پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد کو سانپ، بچھو، نےولا، مہاملاوٹی کہتے ہیں، جبکہ انہوں نے کتنے جماعتوں سے اتحاد کیا ہے۔
مایاوتی نے وزیر اعظم پر ذاتی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کے احترام کی بات کرتے ہیں۔ جو اپنی بیوی کی عزت نہ کرتا ہو، وہ دوسروں کی بہن بیٹی کا کیا احترام کریں گے۔ انہوں نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر وزیر اعظم کے حملہ آور ہونے پر بھی سوال اٹھایا۔ مایاوتی نے ریزرویشن کو لے کر مودی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کا کوٹہ نامکمل ہے۔ پروموشن میں ریزرویشنبے اثر ہے۔ مخالف جماعتوں کی حکومت میں پرائیویٹ سیکٹر میں ریزرویشن کا بندوبست نہیں ہے۔ سرمایہ داروں کو ٹھیکہ دیا جا رہا ہے، جس سے ریزرویشن کا فائدہ نہیں مل پا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم اور اقلیتوں کی حالت خراب ہے۔ ظلم عروج پر ہیں۔ مرکز نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کو بغیر تیاری کے لاگو کیا ہے تو غربت، بے روزگاری میں اور اضافہ ہوا ہے۔ مایاوتی نے سرجیکل اور ائر اسٹرائک کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سیاسی ہوا بنانے کے لئے بی جے پی حکومت جوانوں کی شہادت پر سیاست کر اسے انتخابات میں بھنانے کا کام کر رہی ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام سے جھوٹ بول کر اقتدار میں آئی بی جے پی سے حساب لینے کا وقت آ گیا ہے۔ مودی حکومت کے تمام وعدے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ کسانوں، نوجوانوں، بنکروں، بے روزگاروں اور مزدوروں کو جھوٹے خواب دکھا کر مودی نے اقتدار حاصل کیا۔ کبھی چائے والا تو کبھی چوکیدار بن کر عوام کو ٹھگ رہے ہیں۔ مایاوتی نے گنگا کی صفائی اور کاشی کی ترقی، کاشی وشوناتھ کوریڈور کو لے کر بھی وزیر اعظم مودی کو گھیرا۔ 
انہوں نے کہا کہ گنگا کی صفائی ملک کا مسئلہ ہے، مگر لاکھوں کروڑوں خرچ کے بعد بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ اپنی گنگا میا سے مودی نے وعدہ خلافی کی ہے۔ گنگا میا ضرور سزا دیں گی۔
ریلی میں ایس پی صدر اکھلیش یادو نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی پر جم کر نشانہ لگایا۔ اپنے خاص انداز میں اکھلیش نے کاشی کو کیوٹو بنانے کو لے کر بی جے پی پر سیاسی تیر چلایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کیوٹو میں نہیں آئے تو نیا وزیر اعظم دیجئے۔ اکھلیش نے کہا کہ نوجوان آج موبائل چلا لیتے ہیں تصویر تو دیکھی ہوگی۔ کیوٹو لکھ دینا اور تصویر دیکھ لینا اور اپنے شہر سے ملا لینا۔ انہوں نے کہا کہ کاشی کو کیوٹو بنانا چاہ رہے تھے۔ کیوٹو گیا تو ٹوکیو بلٹ ٹرین میں گئے تھے۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ آپ دن گن لیں اب صرف سات دن باقی ہیں۔ ملک کو نیا وزیر اعظم ملنے جا رہا ہے۔ آپ گن لو آج کے بعد صرف سات دن ہیں۔ 
ریلی میں آر ایل ڈی لیڈر چودھری اجیت سنگھ نے بھی مرکزی حکومت پر حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی جملے بازوں کی حکومت ہے۔ یہ ایسے چوکیدار ہیں کہ ان کے راج میں ملک کی دولت لے کر ان لوگوں بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ 
ہندوستھان سماچارمحمد شہزاد


 
Top