राष्ट्रीय

Blog single photo

مودی اور شی کے مابین سربراہ اجلاس میں سرحد پرامن اور اعتماد بحالی پر رہے گا زور

09/10/2019

مودی اور شی کے مابین سربراہ اجلاس میں سرحد پرامن اور اعتماد بحالی پر رہے گا زور
نئی دہلی، 09 اکتوبر (ہ س)۔ 
وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی ژنپنگ کے دوسری غیر رسمی سربراہ مذاکرات کا بدھ کے روز باضابطہ اعلان کیا گیا۔ دونوں لیڈر تمل ناڈو کے تاریخی اور قدیمی سمندر ی ساحلی شہر مہابلی پورم میں 11 اور 12 اکتوبر کو بغیر کسی طے ایجنڈے کے تبادلہ خیال کریں گے۔ مذاکرات کا مقصد سرحد پر امن و استحکام قائم رکھنا اور اعتماد بحالی کے اقدامات کو آگے بڑھانا ہے۔ 
یہ وزیر اعظم نریندر مودی کا غیر رسمی سربراہ مذاکرات کے طور پر بین الاقوامی اسٹریٹجی میں ایک نیا تجربہ ہے۔ ایسے مذاکرات کے دوران ملک کے سربراہان بغیر کسی طے ایجنڈے کے دو طرفہ تعلقات اور بین الاقوامی امورپر کھلے ذہن سے خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ بھوٹان میں ڈوکلام علاقے میں ہوئی فوجی کشیدگی کے بعد مودی نے گزشتہ سال چین کے ووہان شہر میں شی ژنپنگ کے ساتھ پہلے غیر رسمی مذاکرات کئے تھے۔دونوں لیڈر اس عمل کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ ایسے مذاکرات میں کوئی افسر شامل نہیں ہوتا۔ وہ زیادہ سے زیادہ دولسانی ماہرین کو ساتھ لیتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کی باتوں کو مترجم کے ذریعہ سمجھ سکیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق 11 سے 12 اکتوبر کو دونوں رہنما مہابلی پورم کے سمندر ی ساحل کے قریب غیر رسمی بات چیت کریں گے۔ اس دوران سرحد پر امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت دی جائے گی۔ دونوں لیڈر اس دوران سرحدی امور پر خصوصی نمائندوں سے منسلک مذاکرات کے اگلے مرحلے پر بھی کوئی فیصلہ لے سکتے ہیں۔ 
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں آج کہا کہ آئندہ غیر رسمی سربراہ اجلاس دونوں رہنماو¿ں کے لئے دوطرفہ، علاقائی اور عالمی اہمیت کے حامل کثیر جہتیمدعوں پر بات چیت جاری رکھنے اور بھارت-چین کلوزر ڈیولپمنٹ پارٹنرشپ کو مضبوطبنانے پر خیالات کا تبادلہ کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
اس سے قبل دونوں لیڈر ووہان میں 18 مہینے پہلے بھی اس طرح کی غیر رسمی ملاقات کر چکے ہیں۔ حکومت کے ذرائع نے کہا کہ مودی اور شی کے درمیان ملاقات مکمل طور بغیر کسی طے شدہ ایجنڈے پر ہے اور اس وجہ سے کسی بھی مفاہمت(ایم او یو) پر دستخط نہیں کئے جائیں گے اور کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ اعلیٰ سطح پر رابطہ بنانا اور اہم مسائل پر خیالات کا تبادلہ کرنا ہے۔ 
ہندوستھان سماچار


 
Top