राष्ट्रीय

Blog single photo

مرکزی وزیر تعلیم نے اے ایم یو کے آن لائن سیمینار میں قومی تعلیمی پالیسی پر اظہار خیال کیا

03/12/2020

مرکزی وزیر تعلیم نے اے ایم یو کے آن لائن سیمینار میں قومی تعلیمی پالیسی پر اظہار خیال کیا
علی گڑھ، 3 دسمبر(ہ س)۔
 قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نفاذ سے ہندوستان کی تصویر بدل جائے گی کیوں کہ یہ پالیسی ماضی کو مستقبل سے جوڑتی ہے اور ہندوستان کو چوٹی پر لے جانے پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی وزیر تعلیم جناب رمیش پوکھریال نشنک نے کیا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیر اہتمام ’قومی تعلیمی پالیسی-2020‘ کے موضوع پر منعقدہ ای- 
سیمینار اور پروفیسر ایم سجاد اطہر اور پروفیسر ایس کے سنگھ کی کتاب ”فزکس آف نیوٹرینو اِنٹرایکشنس“ (کیمبرج یونیورسٹی پریس) کی رسم اجراء تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی برابری، معیار اور رسائی کے تصورات پر مبنی ہے اور اس کا مقصد علاقائی زبانوں کے حوالہ سے پائے جانے والے تنوع کا لحاظ رکھتے ہوئے مادری زبان میں بچوں کو ابتدائی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ انھوں نے کہاکہ جاپان، جرمنی، فرانس اور اسرائیل جیسے ممالک کی کامیابی کو سامنے رکھنا چاہئے جو اپنی مادری زبانوں کو استعمال کرکے سائنس اور تعلیم میں کافی آگے جاچکے ہیں۔ جناب نشنک نے کہا ”قومی تعلیمی پالیسی نہ صرف طلبہ کے اندر صلاحیت پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرے گی بلکہ اساتذہ اور اداروں کی صلاحیت بھی بڑھائے گی۔ اس پالیسی کے سلسلہ میں ہمیں کئی لاکھ مشورے موصول ہوئے ہیں اور عوام کی طرف سے مزید مشورے اور تجاویز ہم چاہیں گے“۔ انھوں نے کہاکہ اگر قومی تعلیمی پالیسی پر وسیع نظریہ سے دیکھا جائے تو یہ قومی بھی ہے اور بین الاقوامی بھی ہے۔ یہ ایک مؤثر اور جامع دستاویز ہے اور سبھی کو شامل کرنے والی ہے۔ مرکزی وزیر تعلیم نے کہاکہ کہ 29/جولائی کو مرکزی کابینہ سے منظور ہونے والی قومی تعلیمی پالیسی سے ایک ایسا تعلیمی نظام قائم ہوگا جس سے ملک کی تصویر بدلے گی، سبھی کو اعلیٰ معیاری تعلیم حاصل ہو گی اور ہندوستان عالمی نالج سپرپاور بنے گا۔ 
انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 طلبہ کو اپنی پسند کے ایک یا زیادہ موضوعات کو گہرائی سے پڑھنے کا اہل بنائے گی، ان کے اندر سائنسی مزاج پیدا کرے گی، ان کی کردار سازی ہوگی، ان کے اندر ملک کی خدمت کا جذبہ اور سائنس، سماجی و انسانی علوم، آرٹس وغیرہ میں اکیسویں صدی کی صلاحیتیں پیدا کرے گی۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تعلیم لوگوں کو تاریکی سے روشنی کی طرف لے جاتی ہے، جناب نشنک نے کہاکہ ملک کی ایک ہزار سے زائد یونیورسٹیوں، 35000 سے زائد ڈگری کالجوں اور لاکھوں اسکولوں میں نافذ کرنے والے افراد کو اس میں اہم رول ادا کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہاکہ فی الوقت 3-6 سال کے بچے 10+2 کے ڈھانچے میں شامل نہیں ہیں کیونکہ پہلی جماعت 6سال کی عمر میں شروع ہوتی ہے۔ لیکن 5+3+3+4 کے نئے ڈھانچہ میں تین سال کی عمر سے ایّام طفولت میں دیکھ بھال اور تعلیم (ای سی سی ای) کی مضبوط بنیاد کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کا مقصد بچوں کی بہتر مجموعی نگہداشت اور نمو یقینی بنانا ہے۔ مرکزی وزیر تعلیم نے کہا ”اب اسکولوں میں طلبہ کی کارکردگی رپورٹ کارڈ کے ذریعہ نہیں جانچی جائے گی بلکہ طلبہ کو ایک جامع، کثیر جہتی رپورٹ کے لئے پروگریس کارڈ دیا جائے گا جو ہر طالب علم کی پیش رفت کے ساتھ ساتھ جذب کرنے کی ان کی دماغی صلاحیت اور سائیکوموٹر پہلؤوں کا عکاس ہوگا“۔
 نئی تعلیمی پالیسی کے تحت یونیورسٹی ڈگری کورس کے نظام کی وضاحت کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم نے کہا کہ تین سے چار سال کا بیچلر ڈگری پروگرام ہوگا جس میں ایک سال کے بعد ڈپلوما کے ساتھ باہر نکلنے کا متبادل موجود ہوگا۔ دو سال کے بعد کورس چھوڑنے پر ایڈوانسڈ ڈپلوما ملے گا اور تین سال کے بعد بیچلر ڈگری ملے گی، جب کہ چار سالہ ڈگری پروگرام مکمل کرنے پر ریسرچ کے ساتھ بیچلر ڈگری ملے گی۔ جناب نشنک نے مزید کہا ”مجھے فخر ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کی رہنمائی میں مختلف شعبوں میں ترقی کررہی ہے“۔ انھوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اے ایم یو کی شبیہ کو بہتر بنانے اور سبھی تعلیمی سرگرمیوں میں یونیورسٹی کی ترقی کے لئے وائس چانسلر کی کاوشوں اور محنت کو سراہا۔ 
اس موقع پر جناب رمیش پوکھریال نشنک نے پروفیسر ایم سجاد اطہر اور پروفیسر ایس کے سنگھ (سابق وائس چانسلر، گڑھوال سنٹرل یونیورسٹی) کی کتاب ”فزکس آف نیوٹرینو اِنٹرایکشنس“ (کیمبرج یونیورسٹی پریس) کا اجراء بھی کیا۔ یہ نیوٹرینو فزکس کے موضوع پر اعلیٰ سطح کی کتاب ہے۔ 
ہندوستھان سماچار 







 
Top