व्यापार

Blog single photo

ذاتی ہاتھ میں دینے کے امکانات کے درمیان بی پی سی ایل کے شیئر گرے

07/10/2019

ذاتی ہاتھ میں دینے کے امکانات کے درمیان بی پی سی ایل کے شیئر گرے
نئی دہلی، 07 اکتوبر (ہ س)۔ 
 حکومت ہند کی تیسری سب سے بڑی تیل رفائنری اور مارکیٹنگ کرنے والی عوامی شعبہ کی کمپنی بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل ) کو بجی ہاتھوں میں دینے کی راہ تقریبا ًہموار ہوگئی ہے۔ ایسے میں پیر کے روز اس کے شیئرس میں زوردار گراوٹ درج کی گئی۔ آج بی پی سی ایل کا شیئر 500.35 روپے پر کھل کر 4.83 فیصد کی کمی کے ساتھ 490.65 روپے پر بند ہوا۔ 
دراصل مودی حکومت نے رد اور ترمیمی ایکٹ کو سال 2016 میں ہی ختم کر دیا تھا، جس میں 187 غیر عملی اور بے معنی قانون ردی کی ٹوکری میں چلے گئے۔ جس کے بعد بی پی سی ایل کی اسٹریٹجک فروخت کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ نومبر کے پہلے ہفتے میں حکومت ٹینڈر نکالے گی، جس کے بعد اس کے پرائیویٹائزیشن کاعمل کو شروع ہو جائے گا۔ بی پی سی ایل کی مارکیٹ سرمایہ فی الحال 55000 کروڑ روپے کا ہے۔ حکومت اپنی پوری 53.3 فیصد حصہ داری فروخت کر 60000 کروڑ روپے سے زیادہ جمع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ 
سپریم کورٹ نے ستمبر 2003 میں فیصلہ دیا تھا کہ بی پی سی ایل اور ایچ پی سی ایل کی نجکاری حکومت کی طرف سے قانون میں ترمیم کے بعد ہی کی جا سکتی ہے۔ پارلیمنٹ نے ہی پہلے دونوں کمپنیوں کے نیشنلائزیشن کے لئے قانون منظور کیا تھا۔ ویسے کورٹ کی اس ہدایات سے پہلے اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے دونوں کمپنیوں کی نجکاری کا منصوبہ بنایا تھا۔ تب کورٹ کی ہدایات کے بعد ایچ پی سی ایل میں حکومت کی اپنی 51.1 فیصد حصہ داری میں سے 34.1 فیصد حصہ فروخت کرنے کا منصوبہ رک گیا تھا۔ 
ہندوستھان سماچار


 
Top