चुनावी विशेष

Blog single photo

سیاسی موسم میں سوشل میڈیا پرچھائیں دو پولنگ افسر

15/05/2019

نئی دہلی، 15 مئی (ہ س)۔ 
لوک سبھا انتخابات کے دوران ایک طرف جہاں سیاست داں اپنی اپنی جیت یقینی کروانے کو لے کر دن رات ایک کر رہے ہیں وہیں دوسری طرف ان کی قسمت کو ای وی ایم میں بند کرنے کی ذمہ داری نبھانے والی دو خواتین پولنگ افسر ان ان دنوں انٹرنیٹ پر خوب سرخیاں بٹور رہی ہیں۔ ان دونوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر آنے کے بعد سے ہی یہ ہر طرف موضوع بحث بنی ہوئی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر ان دونوں کو بڑی تعداد میں فرینڈ ریکوےسٹ آ رہی ہیں۔ دونوں کا انٹرویو لینے کے لئے ان کے گھر پر جہاں میڈیا کے لوگ پہنچ رہے ہیں وہیں ان کے ساتھ سےلفی لینے والوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 
چلئے، ان دونوں سے آپ کا تعارف کروا دیتے ہیں۔ ان میں ایک ہے رینا دویدی، جن کی ڈیوٹی لکھنو¿ کے ایک پولنگ مرکز میں لگی تھی۔ ای وی ایم لے کر جاتے ہوئے رینا کی ایک تصویر ان کے ایک ساتھی کارکن نے کھینچی اور سوشل میڈیا پر ڈال دی، جس کے فوراً بعد سے ہی انٹرنیٹ پر ان سے رابطہ کرنے والوں کا سیلاب سا آ گیا۔ دوسری طرف بھوپال کی یوگےشوری گوہٹے کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہو رہا ہے۔ پولنگ والے دن ای وی ایم لے جاتے ہوئے ان کی تصویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کیا پہنچی، انکے فینس کی تعداد اس قدر بڑھ گئی کہ اب انہیں ہر ایک لمحے میں ایک اچھفرینڈ ریکویسٹ مل رہی ہے۔
اپنی اس شہرت سے لطف اندوز ہو رہی یوپی اسٹیٹ میں جونیئر اسسٹنٹ 32 سالہ رینا دویدی کا کہنا ہے کہ ان کی شادی وقت سے تھوڑا جلدی ہو گئی تھی پر انہوں نے اپنی مرضی سے یہ کیریئر منتخب کیا۔ لوگ انہیں پسند کر رہے ہیں اور وہ ہر ایک لمحے کو مکمل طور پر انجوائے کر رہی ہیں۔
رینا کہتی ہیں کہ سب سے بہترکمپلیمنٹ انہیں ان کے بیٹے آدت سے ملا ہے۔ 9 ویں کلاس میں پڑھنے والا آدت اپنے دوستوں کو ویڈیو کال کرکے کہتا ہے کہ سوشل میڈیا پر پیلی ساڑی میں جو خاتون ان دنوں چھائی ہوئی ہے، وہ دراصل میری ماں ہے۔ رینا کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہے، جب ان کی ڈیوٹی انتخابات میں لگی ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ 2014 کے لوک سبھا اور 2017 کے اسمبلی انتخابات کے دوران لکھنو¿ کے کئی پولنگ مراکز میں اپنی خدمات دے چکی ہیں۔ لیکن اس بار وائرل ہوئی ان کی تصویر نے انہیں سےلےبرٹی بنا دیا ہے۔ 
یوگےشوری گوہٹے کی ڈیوٹی بھوپال کے گووندپورا پولنگ ا سٹیشن میں لگی۔ پولنگ اسٹیشن پر پہنچتے ہی نیوز فوٹوگرافر نے اپنا کیمرہ ان کی طرف زوم کر دیا۔ دوپہر ہوتے ہوتے ان کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی تھی۔ میڈیا نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ اس وقت ڈیوٹی پر ہیں۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ وہ اس بات سے کافی حیران ہیں کہ وہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کپڑے پہنتی ہیں۔کسی کی رول ماڈل بننے کے لئے وہ یہ سب نہیں کرتی ہیں۔ یوگےشوری کا خیال ہے ایک عورت کے کپڑے نہیں بلکہ اس کا پیشہ ورانہ طریقہ اور نرم مزاج سب سے زیادہ معنیٰ رکھتا ہے۔ 
ووٹنگ کے بعد یوگےشوری نے اپنے کام سے ایک دن کی چھٹی لی لیکن میڈیا اہلکار ان کے گھر کا پتہ معلوم کر وہیں پہنچ گئے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہر کوئی ان کے ساتھ سےلفی لینا چاہتا ہے۔ فی الحال ہر ایک منٹ میں انہیں سوشل میڈیا پر ایکفرینڈ ریکویسٹ مل رہی ہے، جس کے بعد وہ سوشل میڈیا سے اپنی پروفائل ہٹانے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔ 
ہندوستھان سماچارمحمد شہزاد


 
Top